Monday, 16 June 2014
Wednesday, 3 July 2013
کیا تمام عالم اسلام کے لئے ایک ہی دن عیدین منانا شرعاً ضروری ہے؟
بعض لوگ دُور دراز اور غیر ممالک کی رؤیت کو دلیل بنا کر عام مسلمانوں سے الگ روزے، عیدین اور قربانی وغیرہ کا اہتمام کرنے لگے ہیں۔ ان کے اس طرز عمل سے رمضان، عاشورہ، عرفہ کے روزے، اعتکاف اور عیدین وغیرہ کے ایام میں عجب انتشار نظر آتا ہے۔ کیا کسی مسئلے میں اپنی رائے سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے؟ یقینا نہیں دیتا۔
خیر القرون میں اتحادِ اُمت کے نام پر ایسی صورت کبھی بھی پیش نہیں آئی اور موجودہ دور میں بھی اختلاف کی یہ صورت حال دراصل ذرائع ابلاغ اور میڈیا کی پیدا کردہ ہے جن کے ذریعے ایک خبر منٹوں اور سیکنڈوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے۔ آج سے تقریباً پچاس ساٹھ سال پہلے تک جب سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اور نہ یہ سائنسی آلات ایجاد ہوئے تھے، تو کیا اس وقت اسلام مکمل نہیں تھا؟ اسلامی احکامات ہر دور کے لئے ہیں اور اہل اسلام کو ’’صوموا لرؤیتہ‘‘ (الحدیث) کا حکم پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے اور قیامت تک یہی حکم رہے گا۔
ہر شہر والوں کے لئے اُنہی کی رؤیت کا اعتبار ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک، خلفاء راشدین اور سلف صالحین سے قطعاً یہ ثابت نہیں ہے کہ مدینہ منورہ میں نظر آنے والے چاند کو دور دراز کے شہروں اور دیگر ممالک کے لئے کافی قرار دیا گیا ہو۔ یا دوسرے شہروں میں بھی چاند نظر آنے کا حکم جاری کیا گیا ہو۔
جناب کریب رحمہ اللہ مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں جب میں ملک شام میں تھا تو میں نے خود بھی جمعہ کی رات ماہِ رمضان کا چاند دیکھا۔ اور مدینہ میں ہفتہ کی شام کو دکھائی دیا۔ پھر اسی مہینہ کے آخر میں جب میں مدینہ آیا تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کب چاند دیکھا تھا؟ میں نے کہا کہ جمعہ کی رات کو۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے خود چاند دیکھا تھا؟ میں نے کہا جی ہاں اور دوسرے کئی لوگوں نے بھی دیکھا تھا نیز اُن سب نے روزہ رکھا اور امیر معاویہ t نے بھی روزہ رکھا۔ اس موقع پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
لکنا رایناہ لیلۃ السبت فلا نزال نصوم حتی نکمل ثلاثین او نراہ فقلت اولا تکتفی برؤیۃ معاویۃ و صیامہ فقال لا! ھکذا امرنا رسول اﷲ (صحیح مسلم:۲۵۲۸)۔
لیکن ہم نے تو ہفتہ کی رات کو چاند دیکھا تھا اس لئے ہم روزے رکھتے رہیں گے یہاں تک کہ ہم تیس روزے رکھ لیں اور یا پھر خود (شوال کا) چاند دیکھ لیں۔ میں نے کہا کہ آپ معاویہ رضی اللہ عنہ کی رؤیت اور روزوں کا اعتبار نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں (کیونکہ) ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کا حکم دیا ہے (حدیث صحیح مسلم، سنن ابی داوٗد، جامع ترمذی، مسند احمد اور صحیح ابن خزیمہ وغیرھم)۔
علامہ عبیداللہ رحمانی رحمہ اللہ مرعاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں:محققین حنفیہ، مالکیہ اور اکثر شافعیہ کہتے ہیں کہ اگر دو شہروں کے درمیان فاصلہ اتنا کم ہو کہ اس سے مطلع میں فرق نہیں آتا جیسے بغداد اور بصرہ، تو وہاں کے باشندوں کے لئے کسی ایک شہر کی رؤیت دوسرے شہر والوں کے لئے معتبر ہو گی۔ اور اگر فاصلہ زیادہ ہو جیسے عراق، حجاز اور شام تو ہر شہر والوں کے لئے اُسی شہر کی رؤیت معتبر ہو گی۔
علامہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں اجماع نقل کیا ہے کہ دور دراز کے شہروں کے درمیان ایک دوسرے کی رؤیت کا لحاظ نہیں کیا جائے گا۔ مثلاً اُندلس (اسپین) اور خراسان (ایران) ۔ ہاں ایک بڑے شہر اور آس پاس کے شہروں کے لئے ایک شہر کی رؤیت معتبر ہو گی۔ (فتح الباری، تفسیر قرطبی جلد۲۔ صفحہ۲۹۵)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
لا تصوموا قبل رمضان صوموا لرویتہ فان حالت دونہ غیابۃ فاکملوا ثلثین یوما (الترمذی:۶۸۸، ابوداؤد:۲۳۲۷، النسائی:۲۱۳۰)
رمضان سے قبل روزہ رکھنا شروع نہ کرو۔ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو اور اگر (تمہارے اور چاند کے درمیان) بادل حائل ہو جائیں تو تیس دن کی گنتی پوری کرو۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے رؤیت ہلال سے متعلق جو وضاحت فرمائی اس سے کسی صحابی یا تابعی نے اختلاف نہیں کیا۔ گویا اس مسئلہ پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین کرام کا اجماع سکوتی پایا گیا۔ اس کے خلاف کسی صحابی اور تابعی سے کچھ بھی ثابت نہیں۔ اگر متاخرین نے اس سلسلہ میں کچھ کہا ہے تو وہ ان کی اپنی ذاتی رائے ہے اور بس۔
محدثین نے حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی مسئلہ اخذ کیا ہے۔ چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ نے صحیح مسلم میں حدیث کریب پر یہ باب منعقد کیا: ’’ہر شہر میں وہیں کی رؤیت معتبر ہے اور اگر کسی دوسرے شہر میں چاند دیکھا جائے جو اس شہر سے دور ہو تو اس شہر کے لئے اس کی رؤیت معتبر نہیں ہے‘‘۔ (صحیح مسلم:۲۵۲۸)
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس حدیث پر ان الفاظ میں باب باندھا ہے: ’’ اس بات کا بیان کہ جب دوسرے شہروں کی بنسبت کسی شہر میں ایک رات پہلے چاند نظر آجائے‘‘۔
حدیث باب اس بات کی دلیل ہے کہ تمام شہروں کے رہنے والوں کے روزے اور رمضان اپنی ہی رؤیت سے واجب ہیں نہ کہ ان کے غیر (دوسرے شہر) کی رؤیت سے۔ (یعنی دوسرے مقام کی رؤیت کا ان کے لئے کوئی اعتبار نہیں صرف اپنی ہی رؤیت کا اعتبار کیا جائے گا۔
امام ترمذی جو اکثر مسائل میں اختلاف ائمہ بھی ذکر کرتے ہیں، اس مقام پر انہوں نے کسی کا اختلاف ذکر نہیں کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سلف صالحین کا اس مسئلہ پر اتفاق تھا اور اختلاف بعد میں شروع ہوا۔
البتہ جن جن شہروں کا مطلع ایک ہی ہے اور چاند ان شہروںمیں عموماً ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں بآسانی نظر آجاتا ہے (مثلاً کراچی اور حیدرآباد) تو اگر ان میں سے کسی شہر میں بادلوں کی وجہ سے چاند نظر نہ آسکا تو پھر دوسرے شہر کے چاند کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ مزید تفصیل کے لئے کتاب الشمس والقمر بحسبان ۔ از مولانا عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ)۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس دور میں مملکت اسلامیہ کے سربراہ اور خلیفہ تھے لیکن اس کے باوجود سیدنا ابن عباس w نے امیر المؤمنین کے اس عمل کو اپنے اور اہل مدینہ کے لئے حجت اور دلیل نہیں بنایا بلکہ اس سلسلہ میں انہوں نے آیت:
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اﷲِ وَ الرَّسُوْلِ ۔
’’پس اگر تمہارے درمیان کسی چیز پر کوئی اختلاف ہو جائے تو اُسے اللہ اور اُس کے رسول کی طرف لوٹا دو‘‘۔ (سورئہ نساء:۵۹) پر عمل کرتے ہوئے براہِ راست نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو دلیل بنایا اور اس کا ثبوت ان کے یہ الفاظ ہیں: ھٰکذا امرنا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ (یعنی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے)۔
ماہرین علم فلکیات کے مطابق اختلافِ مطالع حقیقت پر مبنی ہے۔ یعنی مختلف مقامات پر چاند مختلف ایام و اوقات میں نظر آتا ہے جیسا کہ مغربی سمت کے ممالک میں عموماً چاند مشرقی ممالک کے مقابلے میں ایک دن یا کبھی دو دن پہلے نظر آتا ہے۔
پوری دنیا میں یہود و نصاریٰ کے ایک ہی تاریخ میں اپنے مذہبی تہوار منانا ہمارے لئے حجت نہیں کیونکہ عیدین مسلمانوں کے لئے تہوار ہی نہیں ہیں بلکہ نماز و روزے کی طرح یہ بھی عبادات ہیں۔ مسلمانوں کو صیامِ رمضان، عیدین اور مناسک حج وغیرہ کی بجا آوری کے لئے رؤیت ہلال کا پابند کیا گیا ہے۔ جیسا کہ رسول اﷲ eنے فرمایا: صوموا لرویتہ (صحیح بخاری و مسلم) ۔
اگر تمام مسلمانوں کا ایک ہی دن عید وغیرہ منانا وحدت اُمت کے لئے ضروری ہوتا تو اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس بات کا حکم دیتے۔ جب پوری دنیا میں مسلمانوں کا اپنے اپنے شہر کے نظام الاوقات کے مطابق سحر و افطار اور نمازیں ادا کرنا وحدتِ اُمت کو متاثر نہیں کرتا تو اپنے اپنے مطلع کے مطابق چاند دیکھ کر روزہ شروع کرنے اور عید منانے سے وحدتِ اُمت کس طرح متاثر ہو سکتی ہے؟ و صلی اﷲ علیٰ نبینا محمد و الہ و صحبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العالمین۔
اقباس و اختصار از فتاویٰ:
1 شیخ محمد ادریس سلفی (مفتی جماعت غرباء اہلحدیث پاکستان)
2شیخ خلیل الرحمن لکھوی (شیخ الحدیث جامعہ الدراسات الاسلامیہ کراچی)
3شیخ حافظ محمد سلیم، (مفتی المعہد السلفی کراچی)
4شیخ عبدالحنان سامرودی (مفتی جامعہ دارالحدیث رحمانیہ کراچی)
5شیخ عبدالودود نورستانی (مفتی جامعۃ الاحسان الاسلامیہ کراچی)
6شیخ ابوعبداللہ سعید السعیدی (مفتی جامعہ انصاریہ کراچی)۔
7 شیخ منور احمد ذکی۔ (مفتی دارالافتاء والارشاد کورٹ روڈ کراچی)۔
8مفتی ابوجابر عبداللہ دامانوی ۔ (کیماڑی کراچی)۔ حفظہم اﷲ و جزاھم خیراً۔
تصدیق کنندگان:
1شیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی ۔ امیر جمعیت اہلحدیث سندھ۔
2شیخ ابو عبدالمجید محمد حسین بلتستانی ۔ مدیر تعلیم جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی۔
3شیخ محمد یوسف قصوری ۔ امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث سندھ۔
4شیخ حافظ محمد انس مدنی ۔ وکیل جامعہ ستاریہ الاسلامیہ کراچی۔
5شیخ خلیق الرحمن ناصر ۔ شیخ الحدیث جامعہ ابی ہریرہ کراچی۔
6شیخ محمد ابراہیم بھٹی ۔ مدیر معہد الشیخ بدیع الدین۔ سپرہائی وے کراچی۔
لجنۃ الافتاء السلفیۃ (اھل حدیث فتوی کمیٹی)
Monday, 17 June 2013
Laylatul Qadr: Making Du'a in the last 10 nights of Ramadan
Hadith on Laylatul Qadr
Aishah (May Allah be pleased with her) reported:
The Messenger of Allah (Sallallaahu 'alaihi wasallam) used to observe I`tikaf in the last ten days of Ramadan and say, "Seek Lailat-ul-Qadr (Night of Decree) in the odd nights out of the last ten nights of Ramadan.'' [Al-Bukhari]
This Hadith states that Laylatul Qadr can occur in any of the five odd nights - 21st, 23rd, 25th, 27th and 29th - of the last ten nights of Ramadan. Its exact date has not been revealed for the reason that people keep themselves awake for prayer for a larger number of nights. Had its date been fixed, people would have kept awake for prayer only on that night.
رمضان المبارك ميں قيام الليل كى فضيلت كيا ہے ؟
رمضان المبارك ميں قيام الليل كى فضيلت كيا ہے ؟
الحمد للہ:
رمضان المبارك ميں قيام الليل كى فضيلت:
ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم قيام رمضان كى رغبت دلايا كرتے، ليكن انہيں عزيمت كے ساتھ حكم نہ ديتے، پھر فرماتے:
" جس نے بھى رمضان المبارك ميں ايمان اور اجروثواب كى بنا پر قيام كيا اس كے پچھلے تمام گناہ معاف بخش ديے جاتے ہيں "
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فوت ہوئے تو معاملہ اسى طرح تھا ( يعنى تراويح باجماعت ادا نہيں كى جاتى تھيں ) پھر ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى خلافت اور عمر رضى اللہ تعالى عنہ كے ابتدائى دور ميں بھى معاملہ اسى طرح رہا "
اور عمرو بن مرۃ الجھنى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس قضاعۃ قبيلے كا ايك آدمى آيا اور عرض كرنے لگا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم آپ يہ بتائيں كہ اگر ميں يہ گواہى دوں كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں، اور آپ اللہ تعالى كے رسول ہيں، اور پانچ نمازيں ادا كروں، اور ماہ رمضان كے روزے ركھوں، اور رمضان كا قيام كروں، اور زكاۃ ادا كروں تو ؟
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" جو شخص بھى اس پر فوت ہوا تو وہ صديقين اور شھداء ميں سے ہے "
ليلۃ القدر اور اس كى تحديد:
2 - رمضان المبارك كى راتوں ميں افضل ترين رات ليلۃ القدر ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" جس نے بھى ليلۃ القدر كا ايمان اور اجروثواب كے ساتھ ( اور پھر اسے وہ مل بھى گئى ) ليلۃ القدر كا قيام كيا تو اس كے پچھلے سب گناہ بخش ديے جاتے ہيں "
The virtues of Qiyaam (prayer at night) during Ramadaan - Qiyaam Ramadaan by al-Albaani
What is the virtues of Qiyaam (prayer at night) during Ramadaan ?
Praise be to Allaah.
Abu Hurayrah (may Allaah be pleased with him) said: “The Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) used to encourage us to pray at night in Ramadaan, without making it obligatory. Then he said, ‘Whoever prays at night in Ramadaan out of faith and the hope of reward, all his previous sins will be forgiven.’ When the Messenger of Allaah (peace and blessings of Allaah be upon him) died, this is how things were (i.e., Taraaweeh was not prayed in congregation), and this is how they remained during the khilaafah of Abu Bakr (may Allaah be pleased with him), until the beginning of the khilaafah of ‘Umar (may Allaah be pleased with him).”
How can we prepare for the arrival of Ramadaan?
Praise be to Allaah.
Firstly:
You have done well to ask this question, because you have asked how to prepare for the month of Ramadaan. Many people misunderstand the true nature of fasting, and they make it an occasion for eating and drinking, making special sweets and staying up late at night and watching shows on satellite TV. They make preparations for that long before Ramadaan, lest they miss out on some food or prices go up. They prepare by buying food, preparing drinks and looking at the satellite TV guide so they can choose which shows to follow and which to ignore. They are truly unaware of the real nature of fasting in Ramadaan; they take worship and piety out of the month and make it just for their bellies and their eyes.
Subscribe to:
Posts (Atom)
